مایوس کیوں کھڑا ہے۔۔؟ تیرے ساتھ تیرا خدا ہے۔
ہم کبھی زندگی سے اتنے بے زار ہو جاتے ہیں اور اذیتیں یوں گھیراؤ کر لیتی ہیں کہ سب کچھ بھول جاتے ہیں، رونقیں، محفلیں، گہما گہمی، ہنسیاں، قہقہے، حتی کہ کبھی کبھی اپنی ذات تک بھول جاتے ہیں، خود کو سجانا، سنوارنا، کھانا، پینا، سونا، جاگنا سب کچھ اور اتنے مایوس ہو جاتے ہیں کہ جیسے کوئی ہمارا ہے ہی نہیں، اور کوئی دیکھ ہی نہیں رہا ہمارے ابتر حالوں کو، لیکن ایک ذات ہے جو سب دیکھ رہی ہے، ہم اپنے تئیں خیال کر لیتے ہیں کہ سب راستے اور دروازے بند ہو گئے ہیں، ممکن ہے ایسا ہی ہو گیا ہو، لیکن ایک ذات ہے جو اس وقت راستے بنا رہی ہوتی ہے، وہ بند دروازوں کو کھولنے میں مصروف ہوتی ہے، یہ اس ذات کی اپنے بندوں سے محبت ہے، یہ اس کی رحمت ہے کہ جب سب کچھ چھوٹ جاتا یا چھڑوا دیا جاتا وہ تب بھی ساتھ رہتی ہے۔ جی ہاں ایک طرف آپ کو سب کچھ تباہ ہوتا دکھائی دے رہا ہو گا یا پھر تباہ ہو گیا ہو گا، لیکن دوسری طرف وہ ذات سب کچھ نئے سرے سے تعمیر بھی کر رہی ہو گی، آپ کو یوں لگے گا کہ شاید میرے تمام احساس و جذبات خواہشات و تمنیات کا، امیدوں، آرزوؤں کا محل مسمار ہو گیا ہے یا کر دیا گیا ہے، ملبے کا ڈھیر آنکھوں کے سامنے نظر آ رہا ہو تو میرے بھائی یقیں مانو ایک ذات ایسی ہے جو اسی ملبے کے ڈھیر میں سے ایک نہیں کئی پھول کھلانے والی ہے، اور وہ ذات ہے اللہ احکم الحاکمین کی ذات، میرے بھائی اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں، بلکہ اسے حمد وثناء اور دعا کے ذریعے پکارئیں، اپنے دل میں اپنے رب کی یاد کا دیا جلائیں، اسے مایوسی اور اداسی کے اندھیروں میں گمراہ نہ کریں، دل کو اس راستے پر لے جائیں جو اللہ کی طرف جاتا ہے۔
✍️ #سید_لبید_غزنوی
30 مارچ 2021
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں