میں محبت اور تم

کبھی ایسا بھی ہوتا کہ محبت پر یقین نہیں رہتا، نہ ہی پھر انسان کسی کو اپنانے کی کوشش کرتا ہے ، نہ ہی یہ چاہتا ہے کہ وہ کسی اور سے محبت کرے، اور اسے دل کے سنگھاسن پر بٹھائے ، لیکن ہونی کو کون روک پایا ہے ہونی ہو کر رہتی ہے، کوئی جاتا ہے تو کوئی آتا بھی ہے اور آنے والے کے آنے کے بعد پتا چلتا ہے محبت آخر ہوتی کیا ہے ، ہاں یہی ہوا اور اب دل کی گہرائیوں سے تمہیں مخاطب کر کے کہہ رہا ہوں۔۔۔! تم میری ہمنوا بنی ہو ، تو اب میں اپنی ذات میں پڑی ٹوٹی پھوٹی اکائیوں کو جوڑ کر محبت کی مکمل تصویر بناؤں گا ، ہاں اپنائیت کے بکھرے ٹکڑے جوڑ جوڑ کر تم پر وار دوں گا ، میری شہزادی میں تمہارا ہوں بس اور تمہارے آگے اپنا سر جھکا سکتا ہوں کیونکہ میں نے سیکھا ہے کہ محبت میں محبوب کے سامنے انا نہیں دکھایا کرتے ، مگر میرے محبوب یاد رکھنا کہیں تم بھی پہلے گزرے ہوئے لوگوں کی طرح چھوٹی چھوٹی باتوں پر میرے دل میں گھس کر حصہ خاص پر زوردار ضربیں نہ لگانا ، سچ میں ایسا کرنا تمہاری قدر گھٹا دے گا ، ابھی تو تم محبت کے بہت اونچے استھان پر شان بے نیازی سے براجمان ہو۔
✍️ #سید_لبید_غزنوی

تبصرے