تعارف ماہ لقا چندا بائی

یا ساقی کوثر یہی چندا کی دعا ہے
یہ دور رہے ان سے جو ہے ننگ خرابات
چندا کو بخش یا خدا اپنی جناب سے
رتبہ جو دو جہاں میں ہو اقتدار کا

ماہ اپریل کو اس حوالے سے بھی خصوصیت حاصل ہے کہ اس مہینے میں بڑے بڑے نامی گرامی شعرا اور ادیبوں نے آنکھیں کھولیں اور فن و ادب کی اونچی مسندوں پر جلوہ افروز ہوئے۔

میں آج اک ایسی ہی شاعرہ کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے 7 اپریل 1768ء میں اورنگ آباد دکن میں آنکھ کھولی، مگر انکا نام تاریخ کے اوراق میں میں کہیں گم ہو گیا تھا۔ میں ان گم گشتہ اوراق کو پھر سے پردہ ظہور پر لانے کی جسارت کر رہا ہوں، نام انکا ماہ لقا چندا بائی ہے۔ تخلص چندا ہے، جیسا کہ اوپر کے اشعار میں ذکر کیا گیا ہے، ساقی کوثر یہی چندا کی دعا ہے۔۔۔!

چندا بائی اُردو زبان کی پہلی صاحب دیوان شاعرہ تھیں، حیدر آباد دکن میں اردو زبان کی شاعرات میں انکا شمار صف اول کی شاعرات میں ہوتا ہے، اٹھارویں صدی عیسوی میں ماہ لقا ( چندا بائی ) کی شاعری نے اُردو زبان کی شاعری کے چمنستان و دبستان دکنی کو ایک نیا انداز دیا تھا، 1824ء میں جب انکا دیوان چھپا تو انہیں اردو زبان کی پہلی صاحب دیوان شاعرہ کا مقام حاصل ہوا۔

ہندوستان کے جنوبی علاقوں میں اُردو زبان کی ترقی و ترویج و فروغ میں ماہ لقا کی شاعری سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ ماہ لقا شاعرہ ہونے کے ساتھ ساتھ نظام حیدرآباد دربار سے بھی منسلک تھیں دربار میں انکی رسائی مہتاب کنور کے توسط سے ہوئی یہی وجہ تھی کہ وہ ایک طویل عرصہ نواب رکن الدولہ کے زیرِ التفات پرورش پاتی رہیں۔ دربار سے منسلک رہنے کے دوران ہی انہوں نے اپنے ذوقِ شاعری کو بڑھاوا دینا شروع کیا، دور نوجوانی میں انہیں حیدآباد دکن کے تمام ادبی سرمائے شاہی کتب خانوں سے فراہم ہوتے رہے۔

دکنی شاعری میں ماہ لقا سراج اورنگ آبادی سے متاثر تھیں، نواب میر عالم بہادر جو اس زمانے میں بڑے پائے کی ماہر فن و ادب تھے ان سے شاعری میں اصلاح لیا کرتی تھیں۔ ماہ لقا کی مادری زبان اگرچہ اُردو تھی لیکن لہجہ دکنی تھا، اس کے علاوہ انہیں عربی، فارسی اور بھوج پوری زبان پر بھی مہارت حاصل تھی، ان زبانوں میں بڑی آسانی سے گفت شنید کر لیا کرتی تھیں۔ حضرت علی رضی الله تعالیٰ عنہ سے انہیں خاص عقیدت تھی، اگر آپ انکا دیوان ملاحظہ کریں تو جا بجا حضرت علی رضی الله تعالیٰ عنہ کی مدحت و منقبت میں اشعار ملیں گے۔ بلکہ اگر کہا جائے کہ ان کی ہر غزل کا مقطع عموماً حضرت علی رضی الله تعالیٰ عنہ کے مناقب ؤ فضائل کو بیاں کرتا ہے تو بے جا نہ ہو گا اور یہاں تک کہ بعض دفعہ غزلوں کے تمام اشعار ہی حضرت علی رضی الله تعالیٰ عنہ کی تعریف و توصیف میں ہیں۔ جیسا کہ شروع میں مکتوب اشعار کا دوسرا مصرعہ ملاحظہ ہو۔۔۔!
چندا کو بخش یا علی اپنی جناب سے
یہ تو میں نے علی کی بجائے خدا لکھ دیا۔ خیر ان کے کلام کا ایک اور نمونہ پیش خدمت ہے۔

نہ گل سے ہے غرض تیرے نہ ہے گلزار سے مطلب
رکھا چشم نظر شبنم میں اپنے یار سے مطلب

ان کی تصانیف کا ذکر کریں تو۔۔! تو مشہور تصانیف۔ گلزارِ ماہ لقا (دیوان) دیوان چندا (قلمی نسخہ) دیوان ماہ لقا ( چندا بائی)

دکن کی صف اول کی شاعرہ ماہ لقا چندا بائی یکم اگست 1824ء حیدرآباد دکن میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملیں۔ اللہ انکے مرقد پر کروڑوں اربوں رحمتیں نازل فرمائے آمین۔

✍️ #سید_لبید_غزنوی
9 اپریل 2021

تبصرے